27 فروری 2011 - 20:30

امریکی وزارت خارجہ نے لیبیا کے آمر کی زبردست حمایت کرنے اور ان کی بقا سے مأیوس ہونے کے بعد کہا ہے کہ "لیبیا کے بارے میں امریکی صدر اوباما کی میز پر تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی افواج نے لیبیا کے قریب جنگی پوزیشن سنبھالی ہے اور پنٹاگان نے کہا ہے کہ یہ افواج ضرورت کی صورت میں لیبیا میں داخل ہونگی۔ 

دوسری طرف سے امریکی وزارت خارجہ نے لیبیا کے آمر کی زبردست حمایت کرنے اور ان کی بقا سے مأیوس ہونے کے بعد کہا ہے کہ "لیبیا کے بارے میں امریکی صدر اوباما کی میز پر تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔

الجزيرہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی زمینی اور بحری افواج نے لیبیا کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فورسز نے بقول اس کے، "لیبیائی باغیوں" کو امداد روانہ کی ہے۔

دریں اثناء بنغازی میں قائم عبوری حکومت کے سربراہ نے امریکی وزیر خارجہ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ (ہلیری کلنٹن) لیبیائی انقلابی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اور دوسری طرف سے دی ہندو نے لیبیائی اپوزیشن کے حوالے سے لکھا ہے کہ اپوزیشن قذافی کو سرنگون کرنے کی قوت رکھتی ہے اور اسے امریکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔دی ہندو نے مزید لکھا ہے کہ امریکیوں نے کل اتوار کے روز لیبیا کی انقلابی قوتوں کو ہتھیاروں کی پیشکش کی تھی لیکن نظر یوں آتا ہے کہ لیبیا کی آنے والی حکومت پر اثرانداز ہونے کی امریکی کوشش اس مرحلے میں ناکام ہوگئی ہے۔

امریکہ کی بری اور بحری فوج نے لیبیا کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے۔ ادھر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے بھی  قذافی کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔لیبیا کے قبائل نے بھی کرنل قذافی کے خلاف مظاہرین کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہ لیبیا میں امریکی مداخلت کے سنگین نتائج بر آمد ہونگے کیونکہ امریکہ فوجی مداخلت کے ذریعے لیبیا کے عوامی انقلاب کو  ہائی جیک کرکے لیبیا میں اپنی مرضی کا نظام لانا چاہتا ہے۔